گیلی مٹی


تمہیں یاد ہے  پچھلے برس کے وعدے جب پرندے  اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے جب  سارے دن کی مسافت کے تھکے ہارے یہ پرندے اپنے گھونسلوں میں جا چکے تھے  تبھی تم نے مجھ سے کہا تھا کے ان پرندوں کا بھی تو اپنا خود کا  گھونسلہ ہوتا ہے پر میرا  گھر کہاں ہے  تم نے میری طرف  خوفزدہ  اور بے اعتبار  نظروں سے دیکھا تمھارے لہجے کی اداسسسی اس کی مٹھاس  گزشتہ برس کے  عہدو پیماں  اب سوچتا ہوں  تو سب ایک  خواب  لگتا ہے  کتنا اندھا یقین  تھا تمہارے وعدوں پر تمھیں خود ہی اپنی پر خلوص محبت پر تم خود کتنی نازاں تھی  مگر پھر کیا ہوا تمہاری سب آرزوں تمہارے سارے خواب ہوا ہو گئے ریت کے ذروں کی ماند بکھر گئے غرور عشق کا وہ بانکپن ضبط احتیاط  کےگہرے  پانیوں کی نظر ہو گیا  اور تم شک  اور تحفظات کی دلدل میں دھنستی چلی گئی  جو کچھ بھی لوح دل پر رقم تھا  سب حرف غلط کی  طرح مٹ گیا  تم میری بات مت کرو میں تو  پہلے ہی  اندھیکی  راہوں کا باسی تھا جس پر  عزاب آگہی کا ناگ  کنڈلی مارے بیٹھا تھا  میں جو ابن آدم تھا  بنت ہوا کی ازلی  تقدیر سے باخبر تھا  اور جانتا تھا  یہ  دونوں تقدیر کی دلدل میں پھنس کر  ہمشہ کائنات کی  بنائی ہوئی انسانی چکی  کے درمیاں آکر  پستے چلے آرہے ہیں میں خود خوفزدہ ہو جاتا تھا جب تیری آنکھوں میں  تیرے لہجے میں تیری روح میں  محبت کی بھرتی پھولتی نازک کونپلیں  دن بدن بھرتا دیکھتا تھا جب یہ نازک کونپلیں  تقدیر کی چکی میں پسی جائیں گیں تو کیا ہو گا 

میں اسی خوف سے  کچھ نہ  کہ پایا تھا تب  کہ کہیں تم بدگمانی  کا شکار نہ ہو جاؤ  میں تمہیں بتانا چاہتا تھا  زندگی کی تلخ  حقیقت   بنجر خواب ‘بےضمیر انسان’

معاشرے کی رسموں رواج میں لپٹی ہوئی جکڑی ہوئی  بنت حوا  تمہاری سوچوں سے تمہاری محبت کی نازک کونپلوں سے بہت مختلف ہے وہ بنت حوا  میں نے کوشسش کی  کے تمہیں دیکھا سکوں وہ بنت حوا جسے خواب دیکھنے کا حق تو حاصل تھا پر ان پر حکمنانی کا حق حاصل نہیں تھا 

مگر میں کچھ بھی نہیں کہ پایا کچھ بھی نہیں کر سکا   شجر محبت کی  چھاؤں میں بیٹھ کر  تمہارے لئے  درد و فراق کے   صحرا  کا تصور شاید ممکن ہی نہ تھا   اور آج جب میں  تم سے ملنے آیا ہوں تو مجھے تمہاری اداس آنکھوں کا وہ خوف وہ بے یقینی یاد آرہی ہے جب تم نے  گھروں کو جاتے پرندوں کو دیکھ کر اپنا گھر نہ ہونے کا گلہ کیا تھا اور اب تمہیں اس شہر خاموشاں میں منوں مٹی کے اندر   ڈالتے ہوے  سوچ رہا تھا اے کاش بنت حوا کی بیٹی تو محبت کو نازک کونپلوں پر  اپنے خواب بننا چھوڑ دے تا کے پھر کوئی ابن آدم تیرے خوابوں کی تذلیل نہ کر سکے تیری کونپلوں کو مسل نہ سکے  


……………………………………….

عائشہ چودھری

Advertisements

About Aisha Chaudhary

A Person Who's Friend of Thousands But Herself Friendless! A Self-Imposed Cursed And A Blessing in Disguise
This entry was posted in تحریریں and tagged , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s