no one knows what my heart says


Image

سر چھپانے کے لئے مجھ کو   ٹھکانہ    چاییے

اس لئے اب قبر میں ہی گھر بنانا چاییے

بیٹیاں درگو ہو کر کس قدر محفوظ تھیں

پتھروں کے دور کو واپس بلانا چاییے

جب سے یہ مجھ سے ملی ہے  ہوں مسلسل درد میں

سوچتی ہوں زندگی  کو مر ہے جانا چاییے

استطاعت ہے نہیں ورنہ  اذیت وہ ہے کہ

ہر گزرتے پل میں ایک طوفان اٹھانا چاییے

منسلک ہے تلخیاں بھی ہر گزرتے روز سے

عمر کو آگے  نہیں بچپن سے جانا چاییے

بس یہ خواہش تھی  کوئی مجھ کو بھی چاہے ٹوٹ کر

کب کہا  میں نے  مجھے سارا زمانہ چاییے

لڑکھڑا کر گر پڑیں ہیں  تھک کر میری دھڑکنیں

اب تو میرے خضر کو راستہ بتانا چاییے

پھیلتا ہے جا رہا ہے درد کا ناسور تو

ابن مریم کو ہی اب مرہم  لگانا چاییے

روشنی کی اک کرن مانگی  تھی اپنے واسطے

کب کہا کہ سورج ہی میرے سر پر آنا چاییے

آرزو ارمان چاہت خواب ہمدردی وفا دوستی

مخمصے میں ہوں کیسے پہلے جلانا چاییے

گھاؤ بھی میرا مسیحا روز دیتا ہے مجھے

اس پے یہ خواہش کے مجھ کو مسکرانا چاییے

ڈھونڈتا پھرتا ہے میری خامیاں دن رات وہ

دور جانے کا اسے  شاید بہانہ چاییے

Advertisements

About Aisha Chaudhary

A Person Who's Friend of Thousands But Herself Friendless! A Self-Imposed Cursed And A Blessing in Disguise
This entry was posted in تحریریں, شاعری and tagged , . Bookmark the permalink.

2 Responses to no one knows what my heart says

  1. Azeem Javed says:

    May u stay ever blessed

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s