no one knows what my heart says


Image

سر چھپانے کے لئے مجھ کو   ٹھکانہ    چاییے

اس لئے اب قبر میں ہی گھر بنانا چاییے

بیٹیاں درگو ہو کر کس قدر محفوظ تھیں

پتھروں کے دور کو واپس بلانا چاییے

جب سے یہ مجھ سے ملی ہے  ہوں مسلسل درد میں

سوچتی ہوں زندگی  کو مر ہے جانا چاییے

استطاعت ہے نہیں ورنہ  اذیت وہ ہے کہ

ہر گزرتے پل میں ایک طوفان اٹھانا چاییے

منسلک ہے تلخیاں بھی ہر گزرتے روز سے

عمر کو آگے  نہیں بچپن سے جانا چاییے

بس یہ خواہش تھی  کوئی مجھ کو بھی چاہے ٹوٹ کر

کب کہا  میں نے  مجھے سارا زمانہ چاییے

لڑکھڑا کر گر پڑیں ہیں  تھک کر میری دھڑکنیں

اب تو میرے خضر کو راستہ بتانا چاییے

پھیلتا ہے جا رہا ہے درد کا ناسور تو

ابن مریم کو ہی اب مرہم  لگانا چاییے

روشنی کی اک کرن مانگی  تھی اپنے واسطے

کب کہا کہ سورج ہی میرے سر پر آنا چاییے

آرزو ارمان چاہت خواب ہمدردی وفا دوستی

مخمصے میں ہوں کیسے پہلے جلانا چاییے

گھاؤ بھی میرا مسیحا روز دیتا ہے مجھے

اس پے یہ خواہش کے مجھ کو مسکرانا چاییے

ڈھونڈتا پھرتا ہے میری خامیاں دن رات وہ

دور جانے کا اسے  شاید بہانہ چاییے

Posted in تحریریں, شاعری | Tagged , | 2 Comments

جیت جاتا ہوں میں ہار جاتا ہے دل


Image

                                 

سنو زندگی ہاتھ  تھاموں میرا

مجھ کو اس رہ  پر خار سے دور  تم لے چلو

اس جگہ جہاں چند لمحے سہی 

جی سکوں

کہ یہاں یاد کے  سا ے  گہرے ہے اتنے

کہ کچھ بھی سجھائی  دکھائی نہیں دے رہا ہے مجھے

ہر قدم پر گئے وقت کے تذکرے

جن سے ٹکرا کے میں اگرچہ گرتا نہیں

لڑکھڑاتا تو ہوں

اور یہ  لڑکھڑاہٹ  اذیت بھری  ایک سچائی ہے

جس میں گرنے  سمبھلنے کی  اس مختصر سی جنگ  میں

جیت جاتا ہوں میں

 ہار جاتا ہے دل  

 

Posted in Uncategorized | Tagged , | Leave a comment

گیلی مٹی


تمہیں یاد ہے  پچھلے برس کے وعدے جب پرندے  اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے جب  سارے دن کی مسافت کے تھکے ہارے یہ پرندے اپنے گھونسلوں میں جا چکے تھے  تبھی تم نے مجھ سے کہا تھا کے ان پرندوں کا بھی تو اپنا خود کا  گھونسلہ ہوتا ہے پر میرا  گھر کہاں ہے  تم نے میری طرف  خوفزدہ  اور بے اعتبار  نظروں سے دیکھا تمھارے لہجے کی اداسسسی اس کی مٹھاس  گزشتہ برس کے  عہدو پیماں  اب سوچتا ہوں  تو سب ایک  خواب  لگتا ہے  کتنا اندھا یقین  تھا تمہارے وعدوں پر تمھیں خود ہی اپنی پر خلوص محبت پر تم خود کتنی نازاں تھی  مگر پھر کیا ہوا تمہاری سب آرزوں تمہارے سارے خواب ہوا ہو گئے ریت کے ذروں کی ماند بکھر گئے غرور عشق کا وہ بانکپن ضبط احتیاط  کےگہرے  پانیوں کی نظر ہو گیا  اور تم شک  اور Continue reading

Posted in تحریریں | Tagged , , | Leave a comment

میرے قلم سے


 

کیا کشمیر ڈے پر ہماری یکجہتی  کشمیر کے ساتھ اتنی ہی ہے کے سارا دن پاکستانی میڈیا کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کی داستان نشر کرتا رہے اور رات کو وہ ہے میڈیا  اپنے چینلز پر انڈیا کے ڈانس شو انڈیا کے ایوارڈز انڈیا کے کامیڈی شوز اور ڈرامے دیکھا کر مزید یکجہتی کا اظہار کرتا رہے مگر کس سے ؟

Continue reading

Posted in Uncategorized | Leave a comment

My most favourite lines


زندگی اور رشتوں  سےجڑی چھوٹی  چھوٹی خوبصورت  باتیں جن پر اگر ہم عمل کر لیں  اور اپنا لیں تو زندگی  کافی حد تک آسان  اور پرسکوں ہو سکتی ہے  کوشش کریں کے  روز مرہ میں ہونے والے جھگڑوں  کوناراضگی  کو  طول نہ دیں  زندگی بہت آسان  نہ سہی  لکین ان  چھوٹی چھوٹی    باتوں پر عمل کرنے سے  

     تھوڑی  پرسکوں  ضرور بن سکتی ہے  اپنے  اس پاس  رہنے والو کی دل آزاری سے پرہیز  کریں 

 

آپ کی بہترین پہچان آپ اپنا اخلاق ہے اپنی پہچان کو غصے   اور بے ادبی  جہالت میں اکر خراب نہ کریں

عائشہ چودھری@  

 

 

 


 

 

 

 

 

Posted in Uncategorized | Leave a comment

Interpretation with soul


whooop whoooop after a long time once again i am in front of my Diary  :p and trying  to   write  something   but still my mind empty & my thoughts are scattered  i want to say something but  still don’t know what exactly i want to say

hmmmmmmmmm let me share some  scattered words  of my diary

Continue reading

Posted in Uncategorized | Tagged , , , , | Leave a comment

Ramdhan kareem :)


 

 

Posted in Uncategorized | Tagged , , | Leave a comment